لو مدینے کی تجلی سے لگائے ہوئے ہیں
دل کو ہم مطلع انوار بنائے ہوئے ہیں
کشتیاں اپنی کنارے پہ لگائے ہوئے ہیں
کیا وہ ڈوبے جو محمد کے ترائے ہوئے ہیں
نام آنے سے ابوبکر و عمر کے لب پر
تو بگڑتا ہے وہ پہلو میں سلائے ہوئے ہیں
حاضر و ناظر و نور و بشر و غائب کو چھوڑ
شکر کر وہ تیرے عیبوں کو چھپائے ہوئے ہیں
شرم عصیاں سے نہیں سامنے جایا جاتا
یہ بھی کیا کم ہے تیرے شہر میں وہ آئے ہوئے ہیں
اک جھلک آج دکھا گنبد خضرا کے مکیں
کچھ بھی ہیں دور سے دیدار کو آئے ہوئے ہیں
سر پہ رکھ دیجیے دست تسلی آقا
غم کے مارے ہیں زمانے کے ستائے ہوئے ہیں
تیری نسبت ہی تو ہے جس کی بدولت ہم لوگ
کفر کے دور میں ایمان بچائے ہوئے ہیں
کاش دیوانہ بنالیں وہ ہمیں بھی اپنا
ایک دنیا کوجو دیوانہ بنائے ہوئے ہیں
قبر کی نیند سے اُٹھنا کوئی آساں نہ تھا
ہم تو محشر میں اُنہیں دیکھنے آئے ہوئے ہیں
کیوں نہ پلڑا تیرے اعمال کا بھاری ہو نصیر
اب تو میزان پہ سرکار بھی آئے ہوئے ہیں
Page 1 of 1
Lo Madine Ki Beautiful Naat by Late Pir Naseerudin Naseer
Share this topic:
Page 1 of 1


Help
RSS Feed










